نئی دہلی،2؍فروری(ایس او نیوز؍ایجنسی) مرکزی وزیر مملکت برائے امور داخلہ نیتانند رائے نے منگل کے روز لوک سبھا کو بتایا کہ ترمیم شدہ شہریت ایکٹ (سی اے اے) کے تحت قواعد تیار کیے جارہے ہیں۔ وزیر موصوف نے بتایا کہ سی اے اے 2019 قانون 12 دسمبر 2019 کونوٹیفائی کیا گیا تھا اور یہ 20 جنوری ، 2020 سے نافذ العمل ہواتھا۔ ایک سوال کے تحریری جواب میں ، انہوں نے کہا کہ ، ”ترمیم شدہ شہریت ایکٹ- 2019 کے تحت قواعد تیار کیے جارہے ہیں۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی ماتحت قانون ساز کمیٹیوں کی مدت بھی بالترتیب 9 اپریل اور 9 جولائی کردی گئی ہے تاکہ CAA کے تحت قواعد تیار کیے جاسکیں۔
یاد رہے کہ سی اے اے کے تحت پاکستان ، بنگلہ دیش اور افغانستان کی اقلیتی برادریوں ، ہندو ، سکھ ، جین ، بدھ ، پارسی اور عیسائی برادری کے مظلوم لوگوں کو ہندوستان کی شہریت دینے کا انتظام کیا ہے۔ اس قانون کے تحت ، ان برادریوں کے لوگوں کو ہندوستان کی شہریت دی جائے گی ، جو ان تینوں ممالک میں مذہبی ظلم و ستم کی وجہ سے 31 دسمبر 2014 سے قبل ہندوستان آگئے تھے۔گذشتہ سال ملک کے بیشتر حصوں میں سی اے اے کے خلاف مظاہرے کئے گئے تھے۔
خیال رہے کہ گذشتہ ماہ بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری کیلاش وجئے ورگئے نے کہا تھا کہ مغربی بنگال میں جلد ہی ترمیم شدہ شہریت ایکٹ (سی اے اے) نافذ کیا جائے گا۔ پارٹی کے قومی صدر جے پی نڈا نے حال ہی میں ریاست کا دورہ کیا تھا اور کہا تھا کہ اس قانون کو نافذ کرنے کے لئے اصول وقواعد بنائے جارہے ہیں۔